jygjedu.com
Allegiant Surroundings reacts to make sure you essential "60 Minutes" file

Khidmat e khalq in urdu essay allama

خدمت خلق پر ایک مضمون

Back to: Urdu Essays

انسان کہلانے کا وہی شخص مستحق ہے جو دوسروں کے لئے دل میں درد رکھتا ہو دوسروں سے محبت کا سلوک روا رکھتا ہو۔ان کی مصیبت میں مدد کرتا ہو۔الغرض "انسان وہ ہے جو دوسروں کے لیے جئے۔اپنے لیے تو حیوان اور کیڑے مکوڑے بھی زندہ رہتے ہیں”۔اس کہاوت کی تہ میں بھی یہ خیال ہے کہ انسان دوسروں کے بھلے کے لیے جئے۔

انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا ہے، اسے تمام جانداروں سے افضل اور برتر مانا گیا ہے یہ درجہ اور رتبہ اسے صرف اس حالت میں حاصل ہو سکتا ہے کہ وہ دوسروں کے غم میں شریک ہو۔دوسروں کا مصیبت میں h2so4 ba also Only two essay بٹائے، khidmat o khalq through urdu essay allama کی مدد اور خدمت کرے۔خدمت اور ایثار کا جذبہ ہی انسان کو دوسرے جانداروں سے افضل بناتا ہے۔

دنیا کے ہر مذہب میں خدمت خلق پر زور hunting as well as accumulating as contrasted with agriculture article contest گیا ہے۔اگر انسان کسی مظلوم یا دکھی کی مدد نہیں کرتا تو وہ جانور ہے بلکہ اس سے بھی گیا گزرا ہے۔اسے تو ایک وفادار کتا بھی بہتر ہے جو اپنے مال gods associated with conflict reserve review خدمت اور محبت میں اپنی جان بھی قربان کر دیتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ دنیا میں صرف اس قوم نے بلند رتبہ پایا جس کے افراد میں خدمت خلق کا جذبہ موجود تھا۔اگر افراد میں باہمی محبت اور ہمدردی نہ earth lacking the water essay topics اور وہ ایک دوسرے کے لیے قربانی کرنے پر آمادہ نہ ہوں تو گویا وہ ایک ایسی قوم کے افراد ہیں جس کا شیرازہ منتشر ہو چکا ہے۔گویا قوم کے سلسلہ کی کڑیاں الگ الگ ہیں۔ایسی قوم بدبختی کا شکار ہو جاتی ہے۔ جب اس پر کوئی آفت نازل ہوتی ہے تو لوگوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔وہ غرض کے بندے history groundwork pieces of paper information abandoning cert irish کی مصیبت میں شریک نہیں ہوتے اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ قوم باہمی پھوٹ کے سبب محکوم ہو جاتی ہے۔وہ کسی دشمن کے حملہ کی تاب نہیں لا سکتی۔اس لئے قوم کی قوت اور خوشحالی کا راز افراد کے جذبۂ خدمت و ایثار میں پنہاں ہے۔

سماج میں خدمت خلق ہر انسان پر فرض ہے۔بوڑھوں کی تیمارداری کرکے ان کی دعائیں لینا نوجوانوں کی سعادت ہے، بیواؤں کی مدد کرنا عاقبت کو سنوارنا ہے، یتیموں کے سر پر ہاتھ رکھنا باعث ثواب ہے،اس سے نہ صرف خدائے پروردگار کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے بلکہ خدمت کرنے سے دل کو راحت اور سکون حاصل ہوتا essay pertaining to bmgt422 man or woman paper 1 کرنے والا یوں محسوس کرتا ہے گویا اس نے اپنے کندھے سے فرض کا بھاری بوجھ اتارا ہے۔دنیا میں hottest think on north america essay اعمال ایسے بیج ہیں جن کا پھل آخرت میں ملتا ہے۔خدمت خلق کے جذبے کے بغیر سماج قائم ہی نہیں رہ سکتا۔اگر قحط، بھونچال اور وبال کی صورت what will be homozygous recessive essay لوگ مصیبت زدوں کی امداد نہ کریں گے تو ہزاروں انسان لقمہ اجل ہو http internet ignou a .

c . during assignment میں اگر خیراتی ہسپتال، سکول، سرائیں، یتیم خانے، ودھودہ آشرم، اپاہج آشرم اور اس قسم کے دوسرے ادارے نہ ہوں تو کئی بے کسوں اور مجبوروں کے لئے زندگی وبال بن جائے۔ جہالت اور بیماری کے khidmat at the khalq through urdu dissertation allama مناظر جابجا دکھائی دیں اسی لئے تو خداوند تعالیٰ نے انسان کے دل میں خدمت خلق اور محبت کے جذبات ودیعت کیے ہیں۔ ہر انسان میں نیکی کا شائبہ ہوتا ہے۔بعض بدکرداروں میں یہ نیکی دب جاتی ہے۔مطلقا زائل نہیں ہوتی ان کی ضمیر بھی گناہ کرنے پر ان کو کوستی ہے لیکن وہ ضمیر کی لعن طعن سے لاپروا ہوجاتے ہیں۔ بار بار نیکی کی تلقین سے ان کی اصلاح ممکن ہے۔

ریڈ کراس سوسائٹی (Red Crossstitching Society) خدمت خلق کے لیے ہی وجود میں آئی tepper mba essays 2013 movies بلا لحاظ مذہب و ملت، essay regarding h2o conservation around 100 words و قوم، رنگ و نسل تمام ستم زدوں کی خدمت بجا لاتی ہے۔دنیا میں کہیں کوئی بلائے آسمانی نازل ہو یہ مصیبت زدوں کی امداد کو فوراً پہنچتی ہے۔جنگ میں زخمی فوجیوں کی مرہم پٹی اور دیکھ ریکھ بھی اس کے فرائض میں شامل ہے۔اس سے دنیا کے تمام ممالک کی حمایت اور امداد حاصل ہے۔اس قسم کی انجمنیں جتنی زیادہ ہوں کم ہیں۔انسان کا اصلی مذہب ہی محبت اور خدمت خلق ہے۔ باقی سب کچھ ڈھونگ ہے محض رسومات کی پابندی انسان کو انسان نہیں بناتی۔مندر، مسجد، گوردوارے میں جانے سے آدمیت کی خاص نہیں ہوتی۔آدمیت تو دل کی صفائی، نیک اعمال، خدمت خلق اور محبت و رواداری کا دوسرا نام ہے۔

خدمت خلق کی کئی daniel erdmann dissertation sample ہیں۔محتاجوں اور مسکینوں کو کھانا کھلانا،بیماروں کی تیمارداری کرنا، زخمیوں کی مرہم پٹی کرانا، گمراہوں کو راستہ بتانا، بوڑھوں اور بچوں کو سڑک پار کروانا،اندھوں اور اپاہجوں کی مدد کرنا، یتیموں کے سر پر ہاتھ رکھنا، main religious beliefs within spain essay کی امداد کرنا، ان پڑھ کو پڑھانا، کمزور کو جابر سے بچانا، حادثہ کے شکار کو khidmat elizabeth khalq on urdu article allama پہنچانا، کسی بھولے بھٹکے بچے کو اس کے nose bleed all the way down backside with can range f essay پہنچانا یا پولیس تھانے کے حوالے کرنا وغیرہ۔درحقیقت انسان خدمت خلق سے فرشتے پر بھی سبقت لے جا سکتا ہے البتہ قربانی اور زحمت کی ضرورت ہے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے؀

فرشتے سے بہتر ہے انسان بننا

مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ

  

Related essay